“اپنے ضمیر سے مکالمہ”

“تو۔۔۔۔۔ تم یہ طے کر چکے ہو کہ اس بار پھر ووٹ نہیں دینا ہے۔” ضمیر نے قدرے مایوسانہ انداز میں میرے کان میں سرگوشی کی۔
“تم ہی ہر بار مجھے ووٹ دینے سے روکتے ہو ، اس بار ایسا کیا ہے کہ مجھے اکسا رہے ہو۔” میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں اپنے “سوئے ہوئے ضمیر” کو جگانے کی کوشش کی۔
“میں کیسے اس نظام کے تحت ووٹ دے دوں جو صرف اور صرف کچھ مخصوص لوگوں کے لئے بنا ہے۔ وہ لوگ جو انتخابات میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کر کے اربوں کماتے ہیں۔ یہ نظام ایسے بادشاہوں کو تخت پر بٹھاتا ہے جنہیں اپنی رعایا کی نہیں بلکہ اپنے تاج کی فکر ہوتی ہے۔ جن کی نظر عوام کے دل کی طرف نہیں بلکہ دل کے عین اوپر لگی قمیض کی جیب پر ہوتی ہے۔ جوقرض کی دلدل میں ڈوبے اپنے ملک کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بناتے ہیں۔” میں نے اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی خاطر اچھا خاصا لیکچر جھاڑ دیا۔
“شاید تم سانحہ ماڈل ٹاؤن بھول رہے ہو۔” ضمیر نے قدرے دکھ بھرے انداز میں بات کی۔
“یہ تم کیسے سوچ سکتے ہو؟” میرے اس سوال نما جواب میں غصہ نمایاں تھا۔
“میں وہ رات اور دن کیسے بھول سکتا ہوں، جس میں ہوتا ظلم اور بربریت میں نے دوسرے لوگوں کی طرح ٹی وی چینلز کے ذری‏عے نہيں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جس میں مجھ پر اور میرے بھائی پر سیدھے فائر کئے گئے لیکن اللہ پاک نے محفوظ رکھا، جس میں ہونے والی آنسو گیس کی شیلنگ سے ہمارے اپنے بچے متاثر ہوئے، جس میں ہمارا گھر زخمیوں سے بھرا پڑا تھا۔ اور۔۔۔۔ جس میں چودہ لوگ اپنی جانوں سے گئے اور کتنے ایسے زخمی ہیں جو آج چار سال گزرنے کے بعد بھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکے۔” سترہ جون کے وہ وحشتناک مناظر میری آنکھوں کو ایک بار پھر نم کرگئے۔
“تو کیا ان لوگوں کو انصاف مل گيا؟” اس بار ضمیر کا لہجہ بھی تھوڑا مختلف تھا۔
“انصاف کیسے ملتا۔ جب حاکم ہی قاتل ہوں تو انصاف دینے والے ادارے بھی یا تو سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں، یا پھر انصاف کو ان حاکموں کے قدموں تلے رکھ دیتے ہیں کہ اسے روند ڈالو اور اس کی وہ حالت کر دو کہ کوئی دوبارہ ہم سے انصاف نہ مانگے۔۔۔ پھر بھی میں مایوس نہیں ہوں، اللہ پاک کی ذات منصف اعلی’ ہے۔” ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کا صبر اور ان کی امید میری بھی امید بڑھا دیتی ہے۔
“یہی وجہ ہے کہ میں اس بار ووٹ دینے پر اتنا اصرار کر رہا ہوں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ جلد ہو اور متاثرین کو انصاف ملے جو پچھلے چار سال سے عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں تو اپنے ووٹ کو ان ظالموں کے خلاف استعمال کرو، ان کا راستہ روکو، ان کو اقتدار سے دور کرو۔ اگر یہ پھر سے اقتدار میں آگئے تو ناصرف وہ کیس ایک بار پھر سے دب جائے گا بلکہ فرعون سے متاثر یہ پتھر دل لوگ نہ جانے اور کتنے ماڈل ٹاؤن جیسے سانحات بپا کر دیں گے۔” اس بار ضمیر کی آواز میں درد واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔
“لیکن ووٹ کس کو دوں؟ اوّل تو یہاں اچھا امیدوار ملنا بہت مشکل ہے اور اگر مل بھی جائے تو اس کے جیتنے کے چانس نہ ہونے کے برابر ہیں۔” میں نے اپنے حلقے میں کھڑے امیدواروں کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کیا۔
“اس انتخابی نظام میں اگر اچھے لوگ آ بھی جائیں تو انہیں برا بنتے ہوئے دیر نہیں لگتی، لہذا’ تم اپنے آپ کو اس فکر سے آزاد کرو اور صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر ووٹ دینے نکلو۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن بپا کرنے والوں اور ان کے ہمدردوں کو ووٹ نہ دو بلکہ اس امیدوار کو ووٹ دو جو ان ظالموں کی طرف سے کھڑے کئے گئے امیدوار کا مقابلہ کرنے کی بھرپور سکت رکھتا ہو۔” ضمیر نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
 
“فی الحال تو میرے حلقے میں ایسا امیدوار تحریک انصاف کا ہی نظر آ رہا ہے۔ ٹھیک ہے، میں ووٹ دینے ضرور جاؤں گا۔” میں نے مصمّم ارادہ کر لیا۔
#شہزادصادق

Are We On The Verge Of Disaster, Again?

Extremism paved its way in Islam using different avenues (sects) in past. Presently, some bigots are guarding and guiding the way of that avenue which was considered to be the strongest in blocking any kind of extremism passing through it. Interestingly, these guards are being allowed to influence and coach the people, compromising the respect of other scholars, statesmen and institutions.

Bigots’ plan of action is to play with the religious emotions of common people, even by using abusive language sitting in mosques and public gatherings. National Action Plan (NAP) was introduced in this regard with the consent of federal, all provincial governments and the law enforcement agencies, after the heart-wrenching incident of APS, but it could not be implemented in its true letter & spirit and is still in “nap”. Now, the operation Radd-ul-Fasaad has been started by Pakistan Army and other law enforcement agencies which is following a someway successful operation against terrorism – Zarb-e-Azb, but people like Dr. Tahir-ul-Qadri who paved the way for Zarb-e-Azb by his well-known “Fatwa” on terrorism have concerns on the operation in progress, as according to him, it cannot bring fruitful results until the “Umm-ul-Fasad” (instigator) is not addressed.

The “Sattu” policy, in response to the deep-rooted extremism in a sect that did not represent the majority, in past “gifted” us terrorism which has already taken more than 80,000 lives, and the same wait & see policy for the instigators representing the widely-held sect can bring more anarchy and chaotic situation for the country in future. It is beginning and situation can be handled in a nice and controlled way, but the personal, political and institutional benefits could be the biggest obstacles to deal with it, I’m afraid!

#ShahzadSadiq

~*~ دیوانہ ~*~

مظفرحسین جو “دیوانہ” کے نام سے اتنا مقبول تھا کہ مجھے بھی اس کے اصل نام کا اس وقت علم ہوا جب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وا’لہ وسلم کے دن فجر کے بعد اس کی نماز جنازہ کے وقت کا اعلان کیا گيا، حالانکہ میری اس سے تقریبا روزانہ کی ملاقات تھی۔ وہ یا تو جامع مسجد منہاج القرآن کی صفائی میں مصروف ملتا، یا پھر گوشہءدرود کے اطراف لگے پھولوں اور پودوں کی نوک پلک سنوارنے میں مشغول، اور یا پھر اپنی بکری کی کے پاس جو پچھلے کچھ عرصے سے دکھائی نہیں دے رہیی تھی۔
مظفرحسین ایسے حلیہ میں رہتا کہ اس کودیکھتے ہی پہلا لفظ جو ذہن میں ابھرتا وہ “دیوانہ” ہی تھا۔ ہاتھ میں ڈنڈا، کلائیوں میں کڑے، گلے میں تسبیح، کبھی کبھار پیروں میں گھنگھرو، لمبی زلفیں اور تن پر خاکی لباس– عموما ایسے حلیہ والے افراد عبادات سے دور ہی رہتے ہیں لیکن وہ ان میں بھی غافل نہیں تھا۔ گزر بسر کے علاوہ جو رقم بچتی، وہ اس سے عطر خرید لیتا اورجمعہ کے دن مسجد میں آنے والوں کو لگاتا۔
آقا علیہ الصلو’ۃ والسلام کا ایسا غلام کہ اکثر محافل نعت و قوالی میں اس پرایک وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جھومنا شروع ہو جاتا۔ دو سال قبل عمرہ پر جانے سے پہلے ملاقات کے لئے آیا تو کہنے لگا، ” چھجاد (شہزاد) بھائی۔۔۔ دعا کرو میری موت مدینے میں ہو جائے اور میں وہیں دفن ہوجاؤں۔”
ڈاکٹر طاہر القادری سے محبت کا یہ عالم کہ اکثربھیگی آنکھوں کے ساتھ یہ کہا کرتا، ” میری اگر ادھر موت ہوگئی اور شیخ السلام پاکستان میں نہ ہوئے تو کیا ہوگا؟ چھجاد بھائی دعا کرو میرا جنازہ وہ پڑھائیں۔” میں اس کی ہاں میں ہاں تو ملا دیتا مگرساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچتا کہ ڈاکٹر صاحب مصروف آدمی ہیں وہ پاکستان میں ہوئے بھی تو بڑی حد ہے اس کے لئے دعا کر دیں گے، ان جیسے بڑے آدمی کے پاس مسجد کی صفائی کرنے والے اور مالی کا جنازہ پڑھانے کے لئے کہاں وقت ہوگا۔
گوشہء درود میں روزے کے ساتھ دس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے پیش کرنے کے بعد سفید عربی لباس اور سرخ رومی ٹوپی میں ملبوس اس کی آخری دنیاوی منزل عالمی میلاد کانفرنس تھی جو ہر سال ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں منعقد ہوتی ہے۔ نعت خوان آقا علیہ الصلو’ۃ والسلام کی ثناء خوانی میں مصروف تھے اور دیوانہ اسی وجدانی کیفیت میں، اور پھر بلاوا آ گیا۔ میلاد کی رات جہان فانی سے کوچ کرنے والاآقا صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام اور ڈاکٹر طاہر القادری کا دیوانہ 12 ربیع الاول کو منوں مٹی تلے دفن ہو گیا۔
دیوانہ کی نمازجنازہ ڈاکٹر قادری نے پڑھائی اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر تک اپنے کندھوں پر اٹھا کر چھوڑنے کے لئے آئے۔ دنیا نے دیکھا کہ کیسے مسجد کی خدمت کرنے والا ایک ملنگ، ایک دیوانہ۔۔۔ دین اور انسانیت کی خدمت کرنے والی ایک ایسی شخصیت جس کے چرچے عالم میں ہیں کے کندھوں پر سوار ہو کراپنی قبر کی طرف روانہ ہوا۔
دیوانے – قربان تیری دیوانگی پر!!

Driving License Renewal – A Good Experience! 

My driving license had been expired since March 2016 and I was planning to renew it for many days but couldn’t find time to do so. Then the day came when my friend Dr. Khurram asked about the renewal process for his license. I was already up to it, so we made a plan to visit City Traffic Police office for this purpose and select Monday which is today.

Unfortunately, Khurram couldn’t show up. I was alone to complete this mission which was like climbing a mountain before I did it. City Traffic Police office is opposite to Islamia College Civil Lines from where I completed my F.Sc. Whenever I visit that place it reminds me of the days spent with my friend Basit Yameen in college. In those days, we “visited” college regularly as the study was not an issue for “shinning” students like us. Although Basit proved himself a shinning student and completed his Ph.D. afterward but I kept myself away from that shine.

Despite of having the famous ‘Boota Chaney Wala’ at that place, I decide not to change the routine we made during college days and took my breakfast at ‘Amjad Chaney Wala’s Rehri’. It was amazing to know that he still remembered us. The taste was the same as it was 20 years ago.

Although, I can write many pages on those interesting days but don’t want to make it longer to increase your boredom. So let’s start the process!

When you park your bike or car at a parking stand, immediately some agent type people who claim to facilitate during the whole process will rush towards you. Don’t scare of them as you will be not on ‘Zombie’ land. You can reject their proposals with a smiling face as you will get all the information below.

Before entering in office building, make sure you have the following items with you:

  • National Identity Card (NIC) with two copies
  • Driving License with two copies
  • 2 recent photos
  • A pen to fill the form

On entrance, a Policeman will right down some of your particulars from NIC and allow you to enter the building. First of all, you will have to find the sub post office which is situated right next to the room where the learning and new licenses are processed. You will have to wait in queue to get the postal tickets. They charged me Rs. 900 as I applied for M/Cycle and M/Car both. Then you ask someone about Room no. 6 and go there to collect an application form and TCS envelope for Rs. 20. Fill the form which must not difficult for you as if you can read this blog, you can do that too. After filling the form goto Police Dispensary which is close to that room. The man I met there was very decent and cooperative, I can’t guarantee that you will also find the same guy. I don’t know he is Dr. or not but he can make a Medical Certificate for you by charging Rs. 100. He arranged my file that was not in order before and guided me towards Room no. 7, the final destination, where you will have to wait in que again. Don’t forget to give your name, address, phone no, and NIC no on TCS envelope before submitting it in window of that room. Also make sure that you have pasted the postal tickets on your application form. At window, the person will ask you about the cost of tickets which was Rs. 900 in my case. He will also receive Rs. 250 with your file consists of Application Form, two photographs, photocopy of NIC and original license (expired).

Now, you will have to wait outside the same room for the call. A police man will announce your name after some time and handover the file to you. After entering the same room, an officer behind the counter will receive your file. He/she will call you and ask about the particulars you want to change like home address, mobile phone, etc. The officer will also ask your height, blood group and the phone no. to contact in an emergency. Now, it’s time for photo; act normal, make sure your eyes are open and regardless of your surrounding environment if you can afford to smile – it will be a great effort. After photos, you have to enter you name, father name, NIC no. and type of the license you are applying with fingerprints and signatures.

That’s it – your process has been completed and you will receive your renewed driving license within one week.

Note: It took one & half hour in my case.

بچوں کا اغوا اور خوف کا عالم

رات تین بجے شور کی وجہ سے آنکھ کھل گئی۔ کمرے کی لائیٹ جلائی تو ایک عجیب منظر تھا۔ میری مسز نے ہمارے چھوٹے بیٹے احمد بلال کو زور سےاپنے بازؤں میں بھینچا ہوا تھا اور شور مچا رہی تھی، “میرے بیٹے کو لے کر جارہے ہیں۔۔۔ میرے بیٹے کو لے کر جارہے ہیں”۔
میں نے مسز کو تسلی دی کہ دیکھو ہم اپنے کمرے میں ہیں اور تم نے شاید کوئی اس طرح کا خواب دیکھا ہے، پریشان مت ہو اور سو جاؤ۔ اب میں نے احمد بلال کو گود میں لیا جو اچانک نیند سے بیدار ہونے اور اپنی ماما کو پریشانی کی وجہ سے روتے ہوئے دیکھنے کی وجہ سے خوفزدہ تھا۔ اسے پیار سے بیڈ پرلٹایا اور سلا دیا۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد احمد بلال اور اس کی ماما تو نیند کی وادیوں میں چلے گئے، لیکن میں کافی دیر تک سو نہيں سکا۔ میرے خیالات پر ان ماں باپ کی آہ و بکا اور چیخ و پکار کا قبضہ تھا جن کے لخت جگر ظالم درندوں نے معمولی رقم کے لئے جدا کر دئیے تھے۔ میرے ذہن میں اس وقت بس یہی سوال گردش کررہے تھے۔۔۔ کہ
نہ جانے ان والدین کو کیسے صبر آتا ہو گا؟
نہ جانے ان بچوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہوگا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب شاید ہمیں ان حکمرانوں اور اعلی’ افسران سے نہیں مل سکتے جن کے اپنے بچے یا تو دوسرے ممالک میں مقیم ہیں یا سکیورٹی کے نام پر ایک فوج ان کے ہمراہ ہوتی ہے۔
صاحب اقتدار اور صاحب اختیار افراد سے گزارش ہے کہ آپ ہمارے بچوں کو اپنے بچوں جیسی سکیورٹی تو نہيں دے سکتے لیکن خدارا کچھ ایسے اقدامات ضرور کریں جن سے ان گھرانوں کی تشفّی ہوسکے جن کے بچے ان سے بچھڑ گئے ہیں۔ بچوں کے اغوا کی خبریں میڈیا پر آنے سے روکنے کی بجائے عوام کو اعتماد میں لیں۔ کیونکہ آج کل ہر گھر، ہر گلی اور ہر محلّے میں یہی موضوع زیر بحث ہے جو خوف کو مزید تقویّت دے رہا ہے۔

(شہزاد صادق)

~*~ سانحات اور ہماری بے حسی ~*~

قصور میں ہونے والی درندگی کی میڈیا کوریج اب کافی حد تک کم ہوچکی ہے اور کچھ عرصہ میں یہ سوشل میڈیا سے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ پشاور کی طرح غائب ہوجائے گا ۔ اس واقعہ میں ملوث افراد نے پوری دنیا سے خوب لعن طعن سمیٹی۔ جن میں سے کچھ لوگ قانون کے” شکنجے “میں آچکے ہیں اور کچھ آنے والے ہیں۔ پاکستان میں یہ شکنجہ ہمیشہ سےغریب کے لئے بہت مضبوط اور طاقتور کے لئے بہت کمزور ثابت ہوتا رہا ہے۔
اس گھناؤنے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہر طبقہ فکر سے لوگوں نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس کیس کو فوجی عدالت میں لے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ کچھ حکومتی وزراء نے اس کوغیر اہم اور معمول کا واقعہ قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے مبّرا ہونے کی خوب کوشش کی اور ٹی وی دیکھنے والوں سےدل کھول کر”دادوتحسین” وصول کی۔
جہاں اس درندگی نے لوگوں کے دل دہلا کر رکھ دئیے وہيں کچھ لوگ ان معصوم کلیوں سے “ہمدردی ” کی خاطر فلمائے گئی ان ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر تلاش کرتے رہے۔ اپنے گھر کو محفوظ تصوّر کرنے والی پاکستانی عوام اپنے گھروں میں ہی بیٹھی ٹاک شوز میں ہونے والی گرما گرم بحث سے محظوظ ہوتی رہی اور اپنے بچوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے معصوم سوالات کے جواب دینے کی بجائے انہیں ڈانٹتی رہی۔
ہم بے حسی میں جس پستی کا شکار ہوچکے ہیں ، مزید اس سے نیچے جانا شاید ممکن نہيں ہے۔ کوئی بھی حادثہ یا واقعہ ہونے پر ریسکیو کے پہنچنے سے قبل زخمی اور مرنے والوں کی جیبوں سے ان کے موبائیل اور پرس غائب ہوچکے ہوتے ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال حال ہی میں فیروزپور روڈ لاہور پر واقعہ ایک پلازہ میں لگنے والی آگ ہے۔ اپنی جان بچانے کے لئے پانچویں منزل سے گرنے والے شخص کی جیب میں سے موبائیل نکال لیا گیا۔ آگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کے بہانے ان کے دفاتر سے کرنسی اور دیگر قیمتی سامان غائب کیا گیا۔لوگ آگ سے بچنے کے لئے پلازے کی اوپر والی منزلوں سے چھلانگیں لگاتے رہے اور نیچے کھڑے لوگ ان کی مدد کرنے کی بجائےانتہائی مستعدی سے اپنے موبائیل فون سنبھالے ان کی ویڈیوز بناتے رہے۔
معذرت کے ساتھ۔۔۔ جس ملک میں “حرام” کمائی سے گدھوں، کتوں اور مری ہوئی مرغیوں کا”حلال” گوشت خرید کرکھانے کو ملے وہاں اچھائی کی توقع کسی دیوانے کے خواب کی طرح ہے۔ ہمارے حکمران تو “دودھ کے دھلے “ہوئے ہیں اس لئے ہمیں ہی اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے 

~*~ پنجاب کا پیرس ~*~

پنجاب حکومت اپنے وعدے کے مطابق لاہور کو پیرس بنانے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ اسی مقصد کو مدّنظر رکھتے ہوئے بہت سے منصوبے شروع کئے گئے جن میں اگر افادیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آزادی چوک انٹرچینج، فیروزپور روڈ، کینال روڈ اور دیگر سڑکوں کی کشادگی سے نہ صرف لاہور کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا بلکہ ٹریفک کی روانی میں بھی کافی آسانی پیدا ہوئی۔

دیگر منصوبوں کے ساتھ ساتھ بہت سے کاسمیٹک پراجیکٹس بھی شروع کئے گئے۔ جن میں میٹرو بس سروس قابل ذکر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب لوگ  صرف بیس روپے میں میٹرو بس پر سفر کرتے ہیں۔ 27 کلومیٹر کے اس پراجیکٹ میں ہر ایک کلومیٹر پر تقریبا 1.103 ارب روپے خرچ آیا۔ اس منصوبے کے اخراجات پورے کرنے تو درکنار حکومت پنجاب کو تقریبا 2 ارب روپے سالانہ سبسڈی دینی پڑتی ہے اوربظاہر ایسا کوئی امکان نہيں کہ یہ پراجیکٹ کبھی اپنے اخراجات خود اٹھا سکے گے اور سبسڈی کا یہ طوق حکومت پنجاب کے گلے پڑا رہے گا بشرطیکہ اخراجات کا یہ بوجھ میٹرو بس پر سفر کرنے والوں پر ڈالا جائے۔ اگر ایسانہیں کیا جاتا تو پنجاب پر قرض میں مزید اضافہ ہو تا رہے گا جو پہلے ہی 500 ارب  روپےکی حد کو چھو رہا ہے۔  لیکن اگر ایسا کیا جاتا ہے تو میٹرو بس سروس پر غریب پروری کا جو لبادہ اوڑھا گیا ہے وہ اتر جائے گا۔

اسی میٹرو بس کے روٹ میں دریائے راوی کا پل بھی آتا ہے، جس کی تنگی کے با‏عث اکثر وہاں گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے جس کو ہنگامی بنیادوں پر کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔مجھے حیرانی ہے کہ سڑکوں ، پلوں، فلائی اوورز اور انڈر پاسز پر خصوصی توجہ دینے والی پنجاب حکومت کی نظر ابھی تک راوی پل پر کیوں نہیں گئی۔

اب لاہور میں اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔ 27 کلومیٹر کے اس منصوبے کو 22 ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور اس پر 165 ارب روپے لاگت آئے گی۔  یعنی ایک کلومیٹر پر تقریبا 6.11 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ اس پراجیکٹ کے لئے 1.63 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری ہو چکی ہے۔  میٹرو بس کے تجربےسے یہ بات عیاں ہے کہ اورنج لائن ٹرین کے لئے بھی حکومت پنجاب کو ہر سال اچھی خاصی سبسڈی دینی ہوگی۔

اس میں کوئی شک نہیں ، لاہور خوبصورت ہورہاہےلیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ خوبصورتی اور ترقی کھوکھلی  تو نہیں  کیونکہجس رفتار سے پنجاب مقروض ہو رہا ہے، کچھ بعید نہیں کہ 2018 تک یہ صوبہ 1000 ارب روپے سے زیادہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہو۔   گھر میں اگر دیمک لگی ہو تو سب سے پہلے اس کا سدّباب کیا جاتا ہے بجائے اسکے کہ اسی دیمک زدہ گھر پر رنگ و روغن کردیا  جائے، اسطرح دیمک وقتی طور پر غائب تو ہوجاتی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعدپہلے سے زیادہ گھنی اور خطرناک ہوکر ابھرتی ہے۔

~*~ سترہ جون – آنکھوں دیکھا حال ~*~

شدید کھانسی کی وجہ سے گلے میں سخت تکلیف تھی۔ میں نے کھانسی کا سیرپ لیا اور سونے کےلئے بستر میں چلا گیا۔ابھی آنکھ لگے 20 منٹ ہی گزرے ہونگے جب چھوٹے بھائی بابر صادق نے آکر آواز دی، ” بھائی جان۔ڈاکٹرصاحب کے گھر کے قریب پولیس والے جمع ہورہے ہیں اور مجھے ان کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگتے کیونکہ ان کے ساتھ ایک بلڈوزر بھی ہے اور ادارے کے لوگ بھی آگئےہیں”۔ میرا گھر ڈاکٹرطاہرالقادری کے گھر سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ ایک وقت تھا جب ڈاکٹرطاہرالقادری کے لئے میرے دل میں کچھ خاص جذبات نہیں تھے بلکہ شاید مخالفت کا پلڑا زیادہ بھاری تھا، لیکن وقت کے ساتھ ان میں تبدیلی آتی گئی اور ماڈل ٹاؤن میں گھر لینے کی اصل وجہ بھی ان سے محبت ہے۔۔ جب یہ خبر سنی کہ شاید پولیس والے ڈاکٹر صاحب کے گھر پر حملے کی نیت سے آئے ہیں تو دل میں ایک ٹیس سی اٹھی، کھانسی کے سیرپ سے ہونے والی غنودگی ایک دم سے دور ہوگئی اور میں باہر کی طرف بھاگا۔

رات کاتقریبا 2:40 کا وقت تھا۔ پرانی فوجوں کی طرح پولیس کے دستے اپنے سپہ سالار ایس پی ماڈل ٹاؤن کی قیادت میں ڈاکٹرطاہرالقادری کی گلی سے ملحقہ روڈ پر صف آرا تھے۔ ان کے ساتھ ایک بلڈوزر بھی تھا۔ پاکستان عوامی تحریک کے قائدین بھی وہاں پہنچ چکے تھے جو ایس پی ماڈل ٹاؤن طارق عزیزکے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ یہ لوگ رات کے اس پہر ڈاکٹرصاحب کے گھر کے باہر لگے بیرئیر ہٹانے آئے ہیں اور انہیں اوپر سے سخت آرڈر ہیں۔ منہاج القرآن کی انتظامیہ نے ان سے تحریری احکامات کا تقاضا کیا تو ایس پی صاحب فرمانے لگے ہمیں وربل آرڈرز ہیں۔ جس پر ادارے کی انتظامیہ نے کہا کہ ہمارے پاس ہائیکورٹ کے آرڈز ہیں جس میں انہوں نے یہاں بیرئیر لگانے کا حکم دیا تھا اور اس وقت کے ایس پی ماڈل ٹاؤن نے اپنے زیر نگرانی یہ بیرئیرز لگوائے تھے۔ جس پر ایس پی صاحب کچھ دیر کےلئے پیچھے چلے گئے لیکن شاید دوبارہ “وربل” آرڈرز لے کر آگئے کہ ہم یہ بیرئیر ہٹائے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ایس پی صاحب کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ انہیں چاہے جو بھی آرڈرز دکھا دئیے جائیں یہ ٹلنے والے نہیں ہیں۔ دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے کارکن بھی جمع ہونے شروع ہوگئے تھے جن کی تعداد میرے نزدیک ابھی سو ڈیڑھ سو سے زیادہ نہيں تھی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا۔۔پولیس والے پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے۔ کارکنان خوشی سے نعرے لگانا شروع ہوگئے کے پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے اور ابھی تھوڑی دیر میں معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ لیکن یہ صرف ایک چال تھی۔ پولیس اتنا فاصلہ بنانا چاہتی تھی کہ آنسو گیس کے شیل کارکنان پر گریں اور جب وہ وہاں سے بھاگیں تو بلڈوزر کو آگے لایا جائے۔ مگر ان کے حساب کتاب میں کمی اس وجہ سے رہ گئی کہ وہ عوامی تحریک کے ورکرز سے آشنا نہیں تھے۔

آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوچکی تھی۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کو منہاج القرآن کے تحت ہونے والی تربیت میں دین اور امن تو سکھایا گيا تھا لیکن آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے سامنے کیسے کھڑے ہونا ہے یہ نہیں بتایا گيا تھا مگر آفرین ہے ان سو ڈیڑھ سو لوگوں پر جنہوں نے ناصرف آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا سامنا کیا بلکہ پولیس کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ اب عوامی تحریک کے کارکنان کے ہاتھوں میں بھی ڈنڈے نظر آرہے تھے جن میں سے کچھ تو انہوں نے پولیس والوں سے چھینے تھے اور کچھ قریبی درختوں سے توڑ لئے تھے۔ کافی دیر ایسے ہی جاری رہاکبھی پولیس چند قدم آگے آجاتی تو کبھی عوامی تحریک کے کارکن ان کو پیچھے دھکیل دیتے۔میں شاید کچھ زیادہ ہی امن پسند تھا یا خوف زدہ تھا کہ میں اس جنگ میں شامل نہیں ہوااور اپنے موبائیل کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپڈیٹس بھیجتا رہا۔ انٹرنیٹ میں راشد شہزاد صاحب کا استعمال کررہاتھا جن کی دی ہوئی اپڈیٹس سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں جارہی تھیں۔ اب آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی شروع ہوچکی تھی۔ لیکن عوامی تحریک کے کارکنان وہاں سے نہ تو ہٹنے والے تھے اور نہ ہی ہٹے۔ اس سارے واقعے کے دوران پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کی قیادت بھی اسی میدان کارزار میں رہی اور کسی موقع پر کارکنان کو اکیلا نہ چھوڑا۔ شاید وہ انتظار میں تھے کہ کب یہ پولیس والے تھکیں اور مذاکرات کی طرف آئیں تو ہم ان سے بات چیت کریں۔ میں اور راشد شہزاد ایک دوکان کی اوٹ میں بیٹھے تھے کہ ایک لڑکا بھاگتا ہوا پیچھے سے آیا اور کہنے لگا بھائی یہاں سے اٹھ جائیں ادھر سے بھی پولیس آرہی ہے اور اب تو وہ سیدھی گولیاں چلا رہے ہیں۔ ہم نے غور کیا تو اس کی بازو سے خون رواں تھا۔ ہمارے استفسار پر اس نے بتایا کہ اسے گولی لگی ہے لیکن وہ کسی قسم کی میڈیکل ٹریٹمنٹ کی بجائے دوبارہ سے پولیس کی راہ میں رکاوٹ بنے کارکنان کی طرف جانے پر بضد تھا۔ اسی اثناء میں ایک بھائی موٹرسائیکل لے آیا اور ہم نے زبردستی اسے اس کے پیچھے بٹھا کر جناح ہسپتال روانہ کیا۔۔۔احمد رضا وہ پہلا کارکن تھا جسے گولی لگی، آج بھی جب اس سے ملتا ہوں تو اپنے آپ کو اس کا احسان مند پاتا ہوں جس کے اپنے بازو پر گولی لگی ہوئی تھی مگروہ ہمیں ہوشیار کرنے کے لئے بھاگا آیا کہ یہاں سے اٹھ جائیں، کالی وردیوں میں ملبوس بھیڑئیے آرہے ہیں۔

پو پھٹ چکی تھی، سورج اپنی کرنیں بکھیرنے کو بے چین تھا۔ انٹرنیشنل مارکیٹ ماڈل ٹاؤن کی فضا آنسو گیس اور فائرنگ کی بو سے بھری ہوئی تھی۔ پولیس والوں کے حوصلے پست ہورہےتھے، رات سے موجود کارکنان بھی تھک چکے تھے لیکن اپنی جگہ سے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ فجر کی نماز کے بعد مزید کارکن آنا شروع ہوچکے تھے۔ ساری رات کی مزاحمت نے ایک بار پھر ایس پی ماڈل ٹاؤن طارق عزیز کو مذاکرات پر مجبور کردیا تھا۔ عوامی تحریک کی قیادت ایس پی صاحب کو ہائیکورٹ کی طرف سے جاری آرڈرز دکھا رہی تھی۔ کارکنان انہی پولیس والوں کو پانی پلا رہی تھی جو ساری رات ان پر لاٹھیاں، گولیاں اور آنسو گیس برساتی رہی، بے شک یہ بھی ان کے قائد کی تربیت کا ہی اثر ہے۔ معاملات مثبت رخ اختیار کررہے تھے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی تھوڑی دیر میں پولیس والے یہاں سے چلے جائیں گے۔ میں بھی کافی تھکاوٹ محسوس کررہا تھا ، آنسو گیس کی وجہ سے دماغ بھاری ہو رہا تھا اور ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے کھانسی کے شربت کا اثر اب ہونا شروع ہوا ہے۔ لہذا’ میں نے تقریبا 9:00 بجے کے قریب گھر کی راہ لی۔ یہ وہی وقت ہے جب وزیراعلی’ صاحب کے بقول ان کے نوٹس میں یہ بات آئی اور انہوں نے پولیس کو وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ تقریبا ایک گھنٹے کے بعد شدید آنسو گیس کی شیلنگ پھر سے شروع ہوگئی جس کی آواز سے پھر آنکھ کھل گئی۔ کمرے سے باہر آیا تو گھر والے سب پریشان تھے۔ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم بارڈر کے قریب رہتے ہیں اور دشمن کی فوج نے حملہ کردیا ہو۔ اس بار مجھے ماں جی نے باہر جانے سے روک دیا، لیکن پھر بھی کچھ دیر کے بعد بابر باہر چلا گیا ،” میں دیکھ کر آتا ہوں کیا صورتحال ہے”۔ابھی آنسو گیس کے اثرات ہمارے گھر تک نہیں پہنچے تھے۔تھوڑی ہی دیر بعد بابر بہت پریشانی کی حالت میں واپس آگیا اور اس کی آواز کی لرزش سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ باہر کیا حالات چل رہے ہیں۔ “یار ۔بھائی جان۔ وہ تو اب سیدھی گولیاں مار رہے ہیں۔

گولیوں کی ترتراہٹ اور ایمبولینسز کے سائرنوں کی گونجتی آوازیں اب نہایت قریب سے آرہی تھیں۔ گھر کے بچے انتہائی سہمے ہوئے تھے۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ پولیس اب ڈاکٹرصاحب کے گھر تک پہنچ چکی ہے، پھر آنسو گیس کا ایک شیل ہمارے گھر کے گیٹ کے بالکل سامنے گرا۔ میں نے اور بابر نے گھر کے اندرونی دروازے بند کردئیے تاکہ گیس کا اثر گھرکے اندر نہ آئے۔ دروازے بند کرکے ہم باہر آگئے۔ شدید دھویں کی وجہ سے دم گھٹ رہا تھا اور ہمارے گھر کے باہر مسلسل شیل گر رہے تھے۔ گھر سے باہر کے حالات انتہائی خوفناک تھے۔ ہماری گلی سے ملحقہ ڈاکٹرصاحب والی گلی سے زخمیوں اور لاشوں سے بھری ہوئی ایمبولیسنز جناح ہسپتال کی طرف رواں تھیں، لوگ اندھی گولیوں اور آنسو گیس سے بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگ رہےتھے۔ بعض زخمی اور لاشیں ہماری گلی کی نکڑ پر پڑی تھیں۔ ڈاکٹرصاحب کے گھر کے باہراب مکمل طور پر پولیس کا قبضہ تھا۔ ایک عورت پولیس والوں کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کر فریاد کررہی تھی،”خدا کے لئے، مجھے گولی ماردو لیکن ڈاکٹر صاحب کے گھر والوں کو کچھ نہ کہنا”۔ قیامت کا سماں تھا۔ نہ جانے کیوں میرا دھیان بار بار واقعہ کربلا کی طرف جارہاتھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے ایک لاش ایمبولینس میں ڈالی، میں نہیں جانتا وہ کون تھا۔۔۔لیکن نہ جانے کیوں میں نے ایمبولینس میں لٹا کر اس کے قدموں کو ہاتھ لگایا اوربعد میں دیوانگی کے عالم میں ان ہاتھوں کو چومتا رہا۔ دل دھاڑیں مار مار کر رو رہاتھا لیکن آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں جو شاید آنسو گیس کی شدت سے پہلے ہی بہت بہہ چکی تھیں۔ لوگ گلی میں محلے والوں کے دروازوں کے آگے گرے پڑے تھے لیکن محلے والوں کی بے حسی بھی اپنے عروج پر تھی۔ دھویں کے شدت سے ان کی سانسیں رک رہی تھیں۔ میری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ میں اپنے گھر کی طرف بھاگا، مین گیٹ کھولا، اندرونی دروازہ کھولا اور جو لوگ گلی میں ادھر ادھر تڑپ رہے تھےمیں نے اور بابر نے ان کو گھر کے اندر منتقل کرنا شروع کیا۔ بابر نے پانی کا پائپ بھی لگا دیا تاکہ متاثرین آنسوگیس کی شدت کو کم کرسکیں۔ کسی نے کہا کہ نمک دے دیں وہ کھانے سے بھی شدت میں کمی آئے گی، وہ بھی رکھ دیا۔پھر ہمارے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل ہوگئے جو زخمیوں کو اندر لارہے تھے ، ان زخمیوں میں کچھ چہرے جانے پہچانے تھے۔اندرونی دروازے کھلنے سے آنسو گیس گھر کے اندر بھی داخل ہوچکی تھی۔ میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ایک سال کے بیٹے احمد بلال اور اپنی بھتیجی (بابر کی بیٹی) فاطمتہ الزہرہ کو تڑپتے ہوئے دیکھ رہا تھا لیکن ہمارے اولین ترجیح اس لمحے زیادہ سے زیادہ متاثر لوگوں کو محفوظ کرنا تھا۔ ہمارے گھر کے دونوں ٹی وی لاؤنج رخمی لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کے خون سے فرش سرخ ہو رہے تھے۔ اسی طرح ماں جی کا کمرہ عورتوں سے بھرا پڑا تھا۔ ہمارے گھر کی عورتیں اور بچے زخمیوں کو پانی پلانے میں مصروف تھے۔ عورتوں کے ساتھ ساتھ کچھ مرد بھی رو رہے تھے ، کسی کا خاوند باہر تھا تو کسی کا بیٹا، کسی کی بیٹی باہر تھی تو کسی کا بھائی مگر ان سب کے لبوں پر ڈاکٹرصاحب کے گھر کی حفاظت کی دعا تھی۔ اب اکّا دکاّ گولیاں چلنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ حالات کا جائزہ لینے کے لئے میں اور بابر دوبارہ باہر نکلے۔ ڈاکٹر صاحب کی گلی کے علاوہ اب منہاج القرآن مسجد کی جانب سے بھی پولیس والے آرہے تھے۔ ان کے سروں پر صرف خون سوار تھا، ایک پولیس والے نے ہمیں دیکھتے ہی ہماری طرف دو فائر کردئیے۔ ہم سے دو فٹ کے فاصلے پرگھر کے باہر لگے پودے کے پتے گرے تو اندازہ ہوا کہ ان کا ٹارگٹ ہم ہی تھے۔ گھر کے اندر موجود سب لوگ ٹی وی پر ہونے والی کاروائی دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر کے جنریٹر کو بلڈوز کیا جارہاتھا۔ پھر خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ پولیس والے جارہے ہیں۔ ہم لوگ بھی باہر نکلنا شروع ہوگئے۔ جائزہ لینے پر معلوم ہوا ڈاکٹرصاحب کے گھر کے سامنے موجود سکیورٹی کیبن، جنریٹر اور دونوں بیرئیر بلڈوز ہوچکے تھے۔ ان کے گھر کے گیٹ پر گولیوں کے نشان موجود تھے۔ گھر کے باہر لگی نیم پلیٹ جس پر القادریہ لکھا ہوتا ہے اس پر بھی گولی ماری گئی تھی۔ ابھی بھی کچھ زخمی لوگ نظر آرہے تھے جو شاید ایمبولینس کا انتظار کررہے تھے۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر کھڑی تمام گاڑیوں کے شیشے گلوبٹ کے عتاب کا شکار ہوچکے تھے۔ سیکرٹریٹ کے اندر بکھرے ہوئے شیشے یہاں ہونے والی شدید فائرنگ کا ثبوت دے رہے تھے۔ پھر اچانک میری نظر گوشہءدرود کی کھڑکی پر ہوئے گولی کے سوراخ پر پڑی، یوں لگا جیسے ابھی دل بند ہوجائیگا۔ ان بدبختوں نے اس عمارت کو بھی نہیں چھوڑا جس میں روزہ دار لوگ بیٹھ کر ابھی تک اربوں کی تعداد میں درود شریف کا نذرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وا’لہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرچکے تھے۔

نوٹ: 17 جون کے حوالے سے میری ان تحریروں میں صرف وہی کچھ بیان ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس کے علاوہ جو ظلم ڈھایا گيا وہ سب لوگ میڈیا کے ذریعے مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھ چکے ہیں۔

کاسمیٹک پراجیکٹس

میٹرو بس سروس بلاشبہ ایک خوبصورت پراجیکٹ ہے، ایک غریب آدمی کے لئے کافی اطمینان بخش ہوتا ہے جب وہ سگنل فری روڈ پر صرف 20 روپے میں کئی کلومیٹر کا سفر اے۔سی والی بس میں کرتا ہے۔ لاہور میں میٹرو بس کی سہولت سے ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ اسّی ہزار کے قریب لوگ یومیہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کو دی جانے والی یہ سہولت برقرار رکھنے کے لئے پنجاب حکومت کو یومیہ پانچ ملین روپے کی سبسڈی دینی پڑتی ہے جو کہ سالانہ 1.825 ارب روپے بنتے ہیں۔
اب یہی پراجیکٹ راولپنڈی اور اسلام آباد کی عوام کے لئے بھی بنایا گیا ہے جس میں 23 کلومیٹر طویل اس منصوبے پر44.84 ارب روپے لاگت آئی ہے یعنی ایک کلومیٹر پر تقریبا 1.95 ارب روپے کی لاگت آئی ہے اور تقریبا اتنی ہی یا اسے سے زیادہ سالانہ سبسڈی بھی حکومت کو برداشت کرنی پڑے گی۔ غرضیکہ کہ جتنے شہروں میں میٹرو پراجیکٹ بنیں گے ان کی تکمیل کی لاگت کے علاوہ حکومت کو کم ازکم 2 ارب روپے سالانہ کے مزید اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے۔
ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے منصوبے بنائے جو اس کی مدّت اقتدار میں اپنی تکمیل کو پہنچ جائيں تاکہ اگلے الیکشنز میں ان کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو یعنی ٹارگٹ اور ترجیح عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنے اقتدار کو طول دینا ہوتا ہے اور طویل اقتدار کے پیچھے جو محرکات کار فرما ہوتے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں خاص طور پر جب ملک کے امیر ترین لوگوں کی لسٹ میں آپ کے ملک کےحکمرانوں کے نام آ جاتے ہیں۔
اسی طرح کے کاسمیٹک منصوبوں کو چلانے کے لئے پنجاب حکومت نے 2008 سے 2013 تک 452 ارب روپے کے قرضے لئے جن کی تعداد میں اگلے دو سالوں میں دوگنا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک جیسی مکڑیاں ہمارے گرد قرض کا جو جال بن رہی ہیں وہ دن بدن گھنا ہوتا جارہا ہے، جس سے نکلنا وقت کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا، کیونکہ اس قرض سے بننے والے پراجیکٹ اپنا بوجھ اٹھانا تو درکنار سبسڈیز پر چل رہے ہیں !